Select Menu

اردو نیوز پاک اٹالیا

اردو نیوز پاک اٹالیا

اہم خبریں

میلان میں سینیگال کے ایک شخص نے بچوں سے بھری بس کو اغوا کے بعد آگ لگا دی خوش قسمتی سے بچے محفوظ رہے..ہم بحیثیت مسلمان اس فعل کی مذمت کرتے ہیں .اگر خدانخواستہ کسی ایک بچے کو بھی نقصان ہوتا تو یہ تمام غیر ملکیوں کیلئے بہت بڑی شرمندگی اور نقصان کا باعث ہوتا,اس سے غیر ملکیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا..اپنے ارد گرد نظر رکھیں اور اس ذہنیت کے عناصر کو نہ پنپنے دیں..آخر کسی حکومتی اقدام کا ان معصوم بچوں سے کیا لینا دینا...اٹلی میں میرے میڈیا کے ساتھیوں و دیگر سیاسی احباب کو پتہ ہے کہ سانحہ نیوزی لینڈ پر کس طرح اٹالین لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا اور ہم سے تعزیت بھی کی اس فعل کی مذمت بھی کی,اس سے اندازہ لگا لیں کہ ان کے عام آدمی کی سوچ کیا ہے..اس طرح کے واقعات سے تمام غیر ملکی شک کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے ..اللہ اس طرح کے احمقوں کو ہدایت دے آمین

تمام اطالوی بچوں کو افریقی ڈرائیور والی بس سے بچانے والا بچہ بھی ایک غیر ملکی ہی تھا جس کانام سمیر ہے

سارے اٹلی کو بتانے کی ضرورت ہے
تمام اطالوی بچوں کو افریقی ڈرائیور والی بس سے بچانے والا بچہ بھی ایک غیر ملکی ہی تھا جس کانام سمیر ہے
اور مراکشی نژاد ہے
یہی وہ ہیرو ہے جس نے اس ڈر خوف کے عالم میں بھی اطالوی پولیس کو فون پر اطلاع دی اور پولیس پچاس بچوں کو بچانے میں کامیاب ہوئی
یہ دنیا دو قسم کے لوگوں پر ہی قائم ہے اچھے لوگ اور برے لوگ
اس کے علاوہ تیسری کوئی قسم نہ نسل کی ہے نہ مذہب کی اور نہ ہی وطن کی
Image may contain: 1 person

میلان میں سینیگال کے ایک شخص نے بچوں سے بھری بس کو اغوا کے بعد آگ لگا دی

میلان میں سینیگال کے ایک شخص نے بچوں سے بھری بس کو اغوا کے بعد آگ لگا دی خوش قسمتی سے بچے محفوظ رہے..ہم بحیثیت مسلمان اس فعل کی مذمت کرتے ہیں .اگر خدانخواستہ کسی ایک بچے کو بھی نقصان ہوتا تو یہ تمام غیر ملکیوں کیلئے بہت بڑی شرمندگی اور نقصان کا باعث ہوتا,اس سے غیر ملکیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا..اپنے ارد گرد نظر رکھیں اور اس ذہنیت کے عناصر کو نہ پنپنے دیں..آخر کسی حکومتی اقدام کا ان معصوم بچوں سے کیا لینا دینا...اٹلی میں میرے میڈیا کے ساتھیوں و دیگر سیاسی احباب کو پتہ ہے کہ سانحہ نیوزی لینڈ پر کس طرح اٹالین لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا اور ہم سے تعزیت بھی کی اس فعل کی مذمت بھی کی,اس سے اندازہ لگا لیں کہ ان کے عام آدمی کی سوچ کیا ہے..اس طرح کے واقعات سے تمام غیر ملکی شک کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے ..اللہ اس طرح کے احمقوں کو ہدایت دے آمین

میلان میں افریقی ڈرائیور نے بچوں سے بھری سکو ل بس کو ہائی جیک کرکے آگ لگادی

میلان میں افریقی ڈرائیور نے بچوں سے بھری سکو ل بس کو ہائی جیک کرکے آگ لگادی جو پولیس کی مدد سے معجزانہ طور پر بچ پائے
اگر بچ جل جاتے تو یہ اٹلی کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہوتی
سینیگالی ڈرائیور کا کہنا ہے کہ روزانہ سمندر میں جو غیر ملکی مر رہے ہیں اس میں سارا قصور حالیہ اطالوی حکومت کا ہے
اسے اندازہ نہیں ہے کہ اب اس کے اس انتہا پسندانہ عمل سے اٹلی میں غیر ملکیوں کا کتنا نقصان ہو گا
اللہ کا شکر ہے تمام بچے محفوظ ہی

نیوز ی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 4 دہشت گردوں نے دو مساجد میں فائرنگ کرکے 49 نمازیوں کو شہید اور 50 کو زخمی کردیا ہے۔ اس واقعے میں چاروں حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن میں مرکزی ملزم برینٹن ٹیرنٹ ہے جس کی عمر 28 سال اور آسٹریلیا کا شہری ہے۔


نیوز ی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 4 دہشت گردوں نے دو مساجد میں فائرنگ کرکے 49 نمازیوں کو شہید اور 50 کو زخمی کردیا ہے۔
اس واقعے میں چاروں حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن میں مرکزی ملزم برینٹن ٹیرنٹ ہے جس کی عمر 28 سال اور آسٹریلیا کا شہری ہے۔ حکام کے مطابق برینٹن ٹیرنٹ مسلمان مخالف اور انتہا پسند مسیحی گروہ کا کارندہ ہے جس نے ناروے کے دہشت گرد اینڈرز بریوک سے متاثر ہو کر دہشت گردی کی ہولناک واردات سرانجام دی۔ بریوک نے 2011 میں ناروے میں فائرنگ کرکے 85 افراد کو ہلاک کیا تھا۔
نیوز ی لینڈ کے حملہ آوروں سے برآمد ہونے والے اسلحہ اور بلٹ پروف جیکٹوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں انہوں نے ماضی میں مسلمانوں اور عیسائی ریاستوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کے نام لکھے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر جنگیں وہ تھیں جن میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔
معرکہ بلاط الشہداء
حملہ آور نے اپنی بندوق پر لکھا Tours 732۔ اس نے دراصل Battle of Tours کا حوالہ دیا جسے عربی میں معرکہ بلاط الشہداء کہا جاتا ہے۔ معرکہ بلاط الشہداء اپنی اہمیت کے لحاظ سے دنیا کی 15 اہم جنگوں میں شمار کی جاتی ہے۔
یہ جنگ 10 اکتوبر 732ء میں فرانس کے شہر ٹورز کے قریب لڑی گئی جس میں اسپین میں قائم خلافت بنو امیہ کو فرنگیوں کی افواج کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
اندلس کے حاکم امیر عبد الرحمٰن نے 70 ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج کے ذریعے اپنی پڑوسی عیسائی ریاست فرانس پر حملہ کیا تھا۔ مسلمانوں نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے فرانس کے علاقوں غال، وادی رہون، ارلس اور د بورڈیکس پر قبضہ کرلیا۔
مسلمانوں کی کامیابی سے مسیحی دنیا خوف زدہ ہوگئی۔ فرانس کے بادشاہ نے دیگر عیسائی ممالک سے مدد طلب کی تو انہوں نے امدادی فوجیں روانہ کیں۔
توغ کے قریب دونوں افواج کے درمیان زبردست جنگ ہوئی۔ مسیحیوں کی فوج کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اس کے باوجود وہ بہت بہادری سے لڑے۔
10 روز تک جنگ کے بعد مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اگر مسلمان یہ جنگ جیتے تو آج یورپ سمیت پوری دنیا پر مسلمانوں کی حکومت ہوتی۔
مشہور مورخ ایڈورڈ گبن نے اپنی معرکہ آرا تاریخ “تاریخ زوال روما” میں لکھا ’’عرب بحری بیڑا بغیر لڑے ہوئے ٹیمز کے دہانے پر آ کھڑا ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ آج آکسفورڈ میں قرآن پڑھایا جا رہا ہوتا اور اس کے میناروں سے پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات کی تقدیس بیان کی جا رہی ہوتی‘‘۔
sebastiano venier
حملہ آور نے اپنی بلٹ پروف جیکٹ پر دوسری عبارت لکھی ’sebastiano venier‘۔
سباستیانو وینئر اطالوی کمانڈر تھا جس نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لیپانٹو میں اطالوی دستے کی قیادت کی تھی۔ جنگ لیپانٹو 7 اکتوبر 1571ء کو یورپ کے مسیحی ممالک کے اتحاد اور خلافت عثمانیہ کے درمیان لڑی جانے والی ایک بحری جنگ تھی جس میں مسیحی اتحادی افواج کو کامیابی نصیب ہوئی۔
مسیحی فوج میں اسپین، جمہوریہ وینس، پاپائی ریاستیں، جینوا، ڈچی آف سیوائے اور مالٹا کے بحری بیڑے شامل تھے۔
یہ معرکہ یونان کے مغربی حصے میں خلیج پطرس میں پیش آیا جہاں عثمانی افواج کا ٹکراؤ عیسائی اتحاد کے بحری بیڑے سے ہوا جس میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔
یہ بھی دنیا کی فیصلہ کن ترین جنگوں میں سے ایک ہے۔ یہ 15 ویں صدی کے بعد کسی بھی بڑی بحری جنگ میں عثمانیوں کی پہلی اور بہت بڑی شکست تھی جس میں عثمانی اپنے تقریباً پورے بحری بیڑے سے محروم ہو گئے۔
اس جنگ میں ترکوں کے 80 جہاز تباہ ہوئے اور 130 عیسائیوں کے قبضے میں چلے گئے جبکہ 15 ہزار ترک شہید، زخمی اور گرفتار ہوئے اس کے مقابلے میں 8 ہزار اتحادی ہلاک اور ان کے 17 جہاز تباہ ہوئے۔
Marcantonio Colonna
حملہ آور نے جیکٹ پر Marcantonio Colonna لکھا۔ یہ بھی اطالوی بحری فوج کا کمانڈر تھا جس نے جنگ لیپانٹو میں حصہ لیا تھا۔
چارلس مارٹل
حملہ آور نے اپنی اسلحے پر چارلس مارٹل کا نام بھی لکھا جو فرانس کا کیتھولک حکمران تھا جس نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسیحی افواج کی قیادت کی تھی اور مسلمانوں کو شکست دی تھی۔
ویانا 1683
حملہ آور نے اپنی بندوق کے میگزین پر ویانا 1683 بھی لکھا۔
اس نے دراصل جنگ ویانا کا حوالہ دیا۔ 1683ء میں یہ صلیبی جنگ خلاف عثمانیہ اور صلیبی اتحاد کے درمیان ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کے دسویں عظیم فرمانروا سلیمان عالیشان کے دور میں مسلمان فوج نے 1529 میں آسٹریا کے دار الحکومت ویانا کا محاصرہ کرلیا۔
موسم، راستوں کی خرابی اور رسد کی کمی کی وجہ سے محاصرہ بے نتیجہ رہا اور سلطان کو واپس آنا پڑا لیکن یورپ کے وسط تک مسلمانوں کے قدم پہنچنے کے باعث ان کی اہل یورپ پر بڑی دھاک بیٹھ گئی۔
ویانا کا دوسرا محاصرہ 1683 میں سلطان محمد چہارم کے دور میں ہوا جس کی قیادت ترک صدراعظم قرہ مصطفٰی پاشا نے کی۔ دوسرے محاصرے میں مسلمانوں کو قرہ مصطفٰی پاشا کی نااہلی کے باعث جنگ میں بدترین شکست ہوئی۔ اس شکست کے ساتھ ہی وسطی یورپ میں ان کی پیش قدمی ہمیشہ کے لیے رک گئی بلکہ یہ سلطنت عثمانیہ کے زوال کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔
نیوزی لینڈ کے حملہ آوروں نے اپنے اسلحے پر اسی طرح کی مزید عبارتیں اور پیغامات بھی تحریر کیے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور دنیا میں مسلمانوں پر لگایا گیا دہشت گردی کا لیبل محض ایک دھوکہ ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مغرب ان چاروں دہشتگردوں سے کیا سلوک کرتا ہے؟ جہاں عافیہ صدیقی کو محض ایک مبینہ حملے کے الزام میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی وہیں 50 بے گناہ افراد کا خون بہانے والوں کو کیا سزا ملتی ہے۔

اسلام امن کا مذہب نہیں بلکہ انصاف کا دین ہے

اسلام امن کا مذہب نہیں بلکہ انصاف کا دین ہے:
جب تک ہم "اسلام" کے معنی "اللہ کے دین کو تسلیم کرنا" لے رہے تھے، تب تک ہم پوری دنیا پر حکمران تھے، ہاں، اس وقت جب یورپ میں ٹوائلٹ کا نظام بھی نہیں تھا، ہم آدھی دنیا پر حکمرانی کررہے تھے. 
مگر جب ہم نے لفظ "اسلام" کے معنی "سلامتی اور امن" بنا دیا تب سے ہم زوال کی گہرائیوں میں جارہے ہیں، 
جی ہاں ہمارے عروج کی وجہ یہی ایک لفظ ہی تھا، یعنی اسلام کے معنی "اللہ تعالیٰ کے دین کو مکمل تسلیم کرنا" 
اور ہمارے زوال اور کمزور، مغلوب، محکوم اور مظلوم بننے کی وجہ بھی بس یہ ایک ہی لفظ ہے کہ ہم نے لفظ "اسلام کے معنی تسلیم کرنے کی بجائے "سلامتی اور امن" کرنا شروع کردیا....
"تم ہمیں مارتے رہو، ہم تمہیں معاف کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ اسلام ہے"
ہر گز نہیں یہ اسلام کے خلاف ہے، بلکہ اسلام قصاص میں زندگی (یعنی امن) کا کہتا ہے، ارشاد ہے: "وَفِی الْقِصاصِ حَیَاۃُُ"
There is No Moderate Islam, Islam is Islam.
لہٰذا اسلام امن کا مذہب نہیں بلکہ انصاف کا دین ہے .
(عائشہ عدیل خان)

ساری منصوبہ بندی صرف اور صرف مذہب کے خلاف ہے

ساری منصوبہ بندی
صرف اور صرف مذہب کے خلاف ہے۔
یورپ میں الحاد کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک عام وجہ یہ بھی ہے کہ مذاہب کی وجہ سے خونریزی ہوتی ہے انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لیئے ایلومیناٹی طاقتوں نے پہلے اسلام کو نشانہ بنایا اس کی تاریخ کے خلاف جی بھر کر پروپیگنڈہ کیا اور اب باری عیسائیت کی ہے۔ اس پروپیگنڈے کا مقصد انسانیت کو عقیدے سے محروم کر کے دجال کی راہ ہموار کرنا ہے
الحادی ذہن عقیدے سے یکسر خالی ہو کر دجال کو اس دنیا کا محافظ تسلیم کر لے گا ۔ جس کے لیئے برسوں سے ذہن سازی جاری ہے۔ مغرب کی بنائی گئی سپر ہیومن موویز جیسے سپر مین اور اوینجرز وغیرہ اسی ذہن سازی کا ایک تسلسل ہیں جس میں ایک شخص کو پوری دنیا کا محافظ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
ویسے ہی جب دجال ظاہر ہو گا تو
عقیدے سے محروم ذہن کے سامنے
اسے دنیا کا محافظ اور خدا سمجھنے میں کیا رکاوٹ ہو گی ؟
ویسے بھی الحاد خدا کا انکار ہی اس لیئے کرتا ہے کہ وہ دکھائی نہیں دیتا جب ایسا شخص جو خدائی کا دعویٰ کرے اور بظاہر کچھ مافوق الفطرت افعال کا اظہار بھی کرے تو الحادی ذہن اسے خدا کیونکر نہ تسلیم کرے گا ؟
مذہب کے خلاف پروپیگنڈے کا انسانیت کی ذہن سازی کرتے ہوئے محض دجال کی راہ ہموار کرنا ہے ۔ اس دجال کی راہ ، یہودی جس کی آمد کے منتظر ہیں۔ جس کے پیروکاروں میں بڑی تعداد یہودیوں کی ہو گی ۔
ایمان ہی دجالی طاقتوں کے راستے کی واحد رکاوٹ ہے۔ یہ ایمان بڑی قیمتی متاع ہے۔ آج کے پرفتن دور میں اس ایمان کی سلامتی ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور اسے سلامت رکھنا دہکتے انگاروں پر ننگے پاؤں چلنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ ایمان کے لٹیروں کی بہتات ہے اور محافظ بہت کم !
اسی لیئے امام اہل سنت
امام حمد رضا خان علیہ الرحمہ نے فرمایا تھا :۔
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گھٹری تاکی ہے اور تونے نیند نکالی ہے
(حدائق بخشش)